سخن کدہ
sukhankada.bsky.social
سخن کدہ
@sukhankada.bsky.social
Urdu Poetry
میرے لاہور کی اردو بھی سند ہے ثاقب
جو ہے یاروں کی زباں پر وہی ٹکسالی ہے
حسین ثاقب
December 9, 2024 at 1:46 PM
وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے

تم تو غم دے کر بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
فیض احمد فیض
December 6, 2024 at 3:13 PM
‏دستِ استبداد کو مہلت ملے گی بس یہی
اک مقیٌد ہاتھ کے دستِ دعا ہونے تلک

چیرہ دستی ہر یزیدِ عصر کی ہے عارضی
ڈھیل ملتی ہے فقط اک کربلا ہونے تلک

اب قیامت کو تو ثاقب آ ہی جانا چاہئے
جانے کتنی دیر ہے محشر بپا ہونے تلک
حسین ثاقب
November 27, 2024 at 3:07 PM
فیض نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
فیض احمد فیض
November 25, 2024 at 7:25 AM
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
فیض
November 22, 2024 at 8:50 AM
‏مٹ چکا ہوں گا تمہارے باوفا ہونے تلک
کتنی صدیاں چاہئیں پھر آشنا ہونے تلک

سانس کی مہلت بھی دے اے گردشِ لیل و نہار
دوسری اک ابتلا میں مبتلا ہونے تلک

کتنے نوری سال کی دُوری پہ ہو گا دلربا
اب بہم ہونے کے بعد اور پھر جدا ہونے تلک
حسین ثاقب
November 19, 2024 at 3:32 PM
Reposted by سخن کدہ

خود آگہی کا ہمیں اک چراغ بھی نہ ملا
کہاں کہاں نہیں بھٹکے، سراغ بھی نہ ملا
میں دکھ سمجھتا ہوں سب اپنے نکتہ چینوں کے
جنہیں کبھی مرے دامن پہ داغ بھی نہ ملا
مرے نصیب میں ہے کیسی تشنگی ثاقب
کہ ان کے ہاتھ سے خالی ایاغ بھی نہ ملا
حسین ثاقب
November 18, 2024 at 4:54 PM