جو ہے یاروں کی زباں پر وہی ٹکسالی ہے
حسین ثاقب
جو ہے یاروں کی زباں پر وہی ٹکسالی ہے
حسین ثاقب
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کر بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
فیض احمد فیض
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کر بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
فیض احمد فیض
اک مقیٌد ہاتھ کے دستِ دعا ہونے تلک
چیرہ دستی ہر یزیدِ عصر کی ہے عارضی
ڈھیل ملتی ہے فقط اک کربلا ہونے تلک
اب قیامت کو تو ثاقب آ ہی جانا چاہئے
جانے کتنی دیر ہے محشر بپا ہونے تلک
حسین ثاقب
اک مقیٌد ہاتھ کے دستِ دعا ہونے تلک
چیرہ دستی ہر یزیدِ عصر کی ہے عارضی
ڈھیل ملتی ہے فقط اک کربلا ہونے تلک
اب قیامت کو تو ثاقب آ ہی جانا چاہئے
جانے کتنی دیر ہے محشر بپا ہونے تلک
حسین ثاقب
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
فیض احمد فیض
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
فیض احمد فیض
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
فیض
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
فیض
کتنی صدیاں چاہئیں پھر آشنا ہونے تلک
سانس کی مہلت بھی دے اے گردشِ لیل و نہار
دوسری اک ابتلا میں مبتلا ہونے تلک
کتنے نوری سال کی دُوری پہ ہو گا دلربا
اب بہم ہونے کے بعد اور پھر جدا ہونے تلک
حسین ثاقب
کتنی صدیاں چاہئیں پھر آشنا ہونے تلک
سانس کی مہلت بھی دے اے گردشِ لیل و نہار
دوسری اک ابتلا میں مبتلا ہونے تلک
کتنے نوری سال کی دُوری پہ ہو گا دلربا
اب بہم ہونے کے بعد اور پھر جدا ہونے تلک
حسین ثاقب
خود آگہی کا ہمیں اک چراغ بھی نہ ملا
کہاں کہاں نہیں بھٹکے، سراغ بھی نہ ملا
میں دکھ سمجھتا ہوں سب اپنے نکتہ چینوں کے
جنہیں کبھی مرے دامن پہ داغ بھی نہ ملا
مرے نصیب میں ہے کیسی تشنگی ثاقب
کہ ان کے ہاتھ سے خالی ایاغ بھی نہ ملا
حسین ثاقب
خود آگہی کا ہمیں اک چراغ بھی نہ ملا
کہاں کہاں نہیں بھٹکے، سراغ بھی نہ ملا
میں دکھ سمجھتا ہوں سب اپنے نکتہ چینوں کے
جنہیں کبھی مرے دامن پہ داغ بھی نہ ملا
مرے نصیب میں ہے کیسی تشنگی ثاقب
کہ ان کے ہاتھ سے خالی ایاغ بھی نہ ملا
حسین ثاقب