۴- مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی نہیں ہوگی اس لیے پوری تیاری سے نکلنا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
#نومبر24_خان_کی-کال
۴- مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی نہیں ہوگی اس لیے پوری تیاری سے نکلنا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
#نومبر24_خان_کی-کال
۲۔ ۲۴ نومبر کو آپ سب نے پاکستانی پرچم کے ساتھ امن کا سفید جھنڈہ، رومال یا دوپٹہ لے کر نکلنا ہے اور کسی کو بھی اپنا پر امن کا احتجاج سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینی۔
۳– عین ممکن ہے کہ آپ کو مایوس کرنے کے لیے چند دن پہلے سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کردی جائیں۔
۲۔ ۲۴ نومبر کو آپ سب نے پاکستانی پرچم کے ساتھ امن کا سفید جھنڈہ، رومال یا دوپٹہ لے کر نکلنا ہے اور کسی کو بھی اپنا پر امن کا احتجاج سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینی۔
۳– عین ممکن ہے کہ آپ کو مایوس کرنے کے لیے چند دن پہلے سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کردی جائیں۔
۲۴ سے پہلے یہ ہمارے پاس آخری ہفتہ ہے اور یقیناً اس وقت آپ کی تیاری آخری مراحل میں ہوگی اس لئے چند ضروری ہدایات؛
۱- اس بات کو یقینی بنائیں کے آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک ناصرف ۲۴ کو احتجاج کو پیغام پہنچا دیا ہے بلکہ ڈی چوک پہنچنے تک کا آپ کا اور ان کا سارا انتظام اور پروگرام بھی طے شدہ ہے۔
۲۴ سے پہلے یہ ہمارے پاس آخری ہفتہ ہے اور یقیناً اس وقت آپ کی تیاری آخری مراحل میں ہوگی اس لئے چند ضروری ہدایات؛
۱- اس بات کو یقینی بنائیں کے آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک ناصرف ۲۴ کو احتجاج کو پیغام پہنچا دیا ہے بلکہ ڈی چوک پہنچنے تک کا آپ کا اور ان کا سارا انتظام اور پروگرام بھی طے شدہ ہے۔
کہ۔۔۔ جتنے لفظ لکھے ہیں محبت کی کتابوں میں۔۔
کہ۔۔۔ جتنے رنگ ہوتے ہیں بہاروں میں ،گلابوں میں۔۔
کہ۔۔۔ نیلے آسماں پر جس قدر روشن ستارے ہیں۔۔
کہ۔۔۔ جتنے اس زمیں پر چاہتوں کے استعارے ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ موت کے بستر پہ کچھ پل سانس کی چاہت۔۔
کہ جیسے۔۔۔ لمسِ عیسٰی سے ملے بیمار کو راحت۔۔
کہ۔۔۔ جتنے لفظ لکھے ہیں محبت کی کتابوں میں۔۔
کہ۔۔۔ جتنے رنگ ہوتے ہیں بہاروں میں ،گلابوں میں۔۔
کہ۔۔۔ نیلے آسماں پر جس قدر روشن ستارے ہیں۔۔
کہ۔۔۔ جتنے اس زمیں پر چاہتوں کے استعارے ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ موت کے بستر پہ کچھ پل سانس کی چاہت۔۔
کہ جیسے۔۔۔ لمسِ عیسٰی سے ملے بیمار کو راحت۔۔
کہ جیسے۔۔۔ خشک صحرا ابر کو دل سے بلاتا ہے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ بھٹکا راہی منزلوں کی اور جاتا ہے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ رات کی رانی کو راتیں شاد کرتی ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ شبنمی بوسوں کو کلیاں یاد کرتی ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ خواب اور آنکھوں کا رشتہ ہے اٹل ایسے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ جھیل کی بانہوں میں کِھلتا ہے کنول ایسے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ خشک صحرا ابر کو دل سے بلاتا ہے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ بھٹکا راہی منزلوں کی اور جاتا ہے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ رات کی رانی کو راتیں شاد کرتی ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ شبنمی بوسوں کو کلیاں یاد کرتی ہیں۔۔
کہ جیسے۔۔۔ خواب اور آنکھوں کا رشتہ ہے اٹل ایسے۔۔
کہ جیسے۔۔۔ جھیل کی بانہوں میں کِھلتا ہے کنول ایسے۔۔