یہ دیا بادِ فنا سے بھی بھڑک سکتا ہے
اس کو قوّت پہ تکبّر ہے مگر مجھ کو یقیں
دستِ حق بازوئے قاتل کو جھٹک سکتا ہے
میرے جلّاد کو معلوم نہیں ہے شائد
میرا دل دست اجل میں بھی دھڑک سکتا ہے
احمد فراز
یہ دیا بادِ فنا سے بھی بھڑک سکتا ہے
اس کو قوّت پہ تکبّر ہے مگر مجھ کو یقیں
دستِ حق بازوئے قاتل کو جھٹک سکتا ہے
میرے جلّاد کو معلوم نہیں ہے شائد
میرا دل دست اجل میں بھی دھڑک سکتا ہے
احمد فراز