اس ایک غلط موڑ اور آرچ ڈیوک کے قتل نے چار سال تک جاری رہنے والی جنگ عظیم اول کا آغاز کیا، جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، سلطنتیں تباہ ہوئیں، اور دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ یہ واقعہ تاریخ کا ایک اہم سبق بن گیا کہ کس طرح ایک چھوٹا سا واقعہ عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس ایک غلط موڑ اور آرچ ڈیوک کے قتل نے چار سال تک جاری رہنے والی جنگ عظیم اول کا آغاز کیا، جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، سلطنتیں تباہ ہوئیں، اور دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ یہ واقعہ تاریخ کا ایک اہم سبق بن گیا کہ کس طرح ایک چھوٹا سا واقعہ عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
28 جولائی 1914 کو آسٹریا-ہنگری نے سربیا پر جنگ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اتحادی ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، اور دنیا ایک عالمی تنازعے میں داخل ہو گئی۔
28 جولائی 1914 کو آسٹریا-ہنگری نے سربیا پر جنگ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اتحادی ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، اور دنیا ایک عالمی تنازعے میں داخل ہو گئی۔
آسٹریا-ہنگری کے سربیا پر حملے نے دیگر ممالک کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔ روس نے سربیا کی حمایت کی، جبکہ جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کا ساتھ دیا۔ فرانس، برطانیہ، اور دیگر اتحادی ممالک بھی اس تنازعے میں شامل ہو گئے۔
آسٹریا-ہنگری کے سربیا پر حملے نے دیگر ممالک کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔ روس نے سربیا کی حمایت کی، جبکہ جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کا ساتھ دیا۔ فرانس، برطانیہ، اور دیگر اتحادی ممالک بھی اس تنازعے میں شامل ہو گئے۔
آسٹریا-ہنگری نے سربیا کو ایک سخت الٹی میٹم دیا، جس میں کئی مطالبات شامل تھے۔ سربیا نے ان میں سے زیادہ تر مطالبات مان لیے، لیکن ایک پر اتفاق نہ کیا۔ یہ تنازعہ آسٹریا-ہنگری کو جنگ کے لیے اکسا رہا تھا۔
آسٹریا-ہنگری نے سربیا کو ایک سخت الٹی میٹم دیا، جس میں کئی مطالبات شامل تھے۔ سربیا نے ان میں سے زیادہ تر مطالبات مان لیے، لیکن ایک پر اتفاق نہ کیا۔ یہ تنازعہ آسٹریا-ہنگری کو جنگ کے لیے اکسا رہا تھا۔
پرنسپ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے آرچ ڈیوک اور ان کی بیوی پر گولیاں چلائیں۔ دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ آسٹریا-ہنگری کے لیے شدید دھچکا تھا اور انہوں نے اسے سربیا کے خلاف کارروائی کا بہانہ بنا لیا۔
پرنسپ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے آرچ ڈیوک اور ان کی بیوی پر گولیاں چلائیں۔ دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ آسٹریا-ہنگری کے لیے شدید دھچکا تھا اور انہوں نے اسے سربیا کے خلاف کارروائی کا بہانہ بنا لیا۔
ناکام حملے کے بعد آرچ ڈیوک نے زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ان کے قافلے کے ڈرائیور نے غلط موڑ لے لیا، اور وہ حادثاتی طور پر گویلو پرنسپ کے سامنے آ گئے، جو ابھی بھی قتل کے موقع کی تلاش میں تھا۔
ناکام حملے کے بعد آرچ ڈیوک نے زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ان کے قافلے کے ڈرائیور نے غلط موڑ لے لیا، اور وہ حادثاتی طور پر گویلو پرنسپ کے سامنے آ گئے، جو ابھی بھی قتل کے موقع کی تلاش میں تھا۔
آرچ ڈیوک کے قافلے پر پہلا حملہ سرائیوو کی سڑکوں پر ہوا، جب ایک بم ان کی گاڑی کی جانب پھینکا گیا، لیکن یہ حملہ ناکام رہا۔ بم ایک دوسری گاڑی سے ٹکرایا اور کئی لوگ زخمی ہوئے، لیکن آرچ ڈیوک اور ان کی بیوی محفوظ رہے۔
آرچ ڈیوک کے قافلے پر پہلا حملہ سرائیوو کی سڑکوں پر ہوا، جب ایک بم ان کی گاڑی کی جانب پھینکا گیا، لیکن یہ حملہ ناکام رہا۔ بم ایک دوسری گاڑی سے ٹکرایا اور کئی لوگ زخمی ہوئے، لیکن آرچ ڈیوک اور ان کی بیوی محفوظ رہے۔
ایک سرب قوم پرست تنظیم "بلیک ہینڈ" نے آرچ ڈیوک کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ گویلو پرنسپ، ایک 19 سالہ نوجوان، اس سازش میں شامل تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ آرچ ڈیوک کے قافلے پر حملہ کیا جائے اور انہیں قتل کیا جائے۔
ایک سرب قوم پرست تنظیم "بلیک ہینڈ" نے آرچ ڈیوک کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ گویلو پرنسپ، ایک 19 سالہ نوجوان، اس سازش میں شامل تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ آرچ ڈیوک کے قافلے پر حملہ کیا جائے اور انہیں قتل کیا جائے۔
آسٹریا-ہنگری کے ولی عہد، آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ نے 28 جون 1914 کو بوسنیا کے شہر سرائیوو کا دورہ کیا۔ یہ دن سربوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ سربیا کی سلطنت کی یادگار کا دن تھا۔ آرچ ڈیوک کے دورے کو سرب قوم پرستوں نے ایک اشتعال انگیز عمل کے طور پر دیکھا۔
آسٹریا-ہنگری کے ولی عہد، آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ نے 28 جون 1914 کو بوسنیا کے شہر سرائیوو کا دورہ کیا۔ یہ دن سربوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ سربیا کی سلطنت کی یادگار کا دن تھا۔ آرچ ڈیوک کے دورے کو سرب قوم پرستوں نے ایک اشتعال انگیز عمل کے طور پر دیکھا۔
1914 میں یورپ کے بلقان خطے میں قوم پرستی عروج پر تھی۔ سربیا اپنی خود مختاری کو مضبوط کرنا چاہتا تھا، جبکہ آسٹریا-ہنگری اپنی سلطنت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرب قوم پرست آسٹریا کے خلاف بغاوت کی راہ پر تھے، اور یہی تنازعہ آگے چل کر ایک مہلک موڑ پر پہنچا۔
1914 میں یورپ کے بلقان خطے میں قوم پرستی عروج پر تھی۔ سربیا اپنی خود مختاری کو مضبوط کرنا چاہتا تھا، جبکہ آسٹریا-ہنگری اپنی سلطنت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرب قوم پرست آسٹریا کے خلاف بغاوت کی راہ پر تھے، اور یہی تنازعہ آگے چل کر ایک مہلک موڑ پر پہنچا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے دنیا بھر میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے دنیا بھر میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔