(Saim Ayub & Salman Agha)
(Saim Ayub & Salman Agha)
تم نے دل اِتنا دُکھایا ہے مگر، کوئی نہیں
تم نے دل اِتنا دُکھایا ہے مگر، کوئی نہیں
ایک ہجرت تو سب پہ لازم ہے
ایک ہجرت تو سب پہ لازم ہے
سمجھنے کو تذکرہ کسی ولی سے کیجئے!
میـں تو جلد بـاز ہوں ازل سے ہی جنـاب
مگر آپ تو محبـت زرا تسـلی سے کیجئے!
سمجھنے کو تذکرہ کسی ولی سے کیجئے!
میـں تو جلد بـاز ہوں ازل سے ہی جنـاب
مگر آپ تو محبـت زرا تسـلی سے کیجئے!
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسمان جیسے
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسمان جیسے
ڈوبنے والا تو فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے
اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا
کون بدبخت! تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
ڈوبنے والا تو فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے
اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا
کون بدبخت! تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
اپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کو
میں سخن فہم ہوں کسی وصل کا محتاج نہیں
چاندنی رات ہے ایک شعر سنا دے مجھ کو
خود کشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز
زندگی اب کوئی رستہ نہ دکھا دے مجھ کو
اپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کو
میں سخن فہم ہوں کسی وصل کا محتاج نہیں
چاندنی رات ہے ایک شعر سنا دے مجھ کو
خود کشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز
زندگی اب کوئی رستہ نہ دکھا دے مجھ کو
باصر بھرے بھرائے میرے جام رہ گئے
باصر بھرے بھرائے میرے جام رہ گئے
زندگی اتنی مختصر بھی نہیں
زندگی اتنی مختصر بھی نہیں
This Irishman came to support Imran Khan while on crutches. I saw him at the train station, struggling to go down the stairs. Yet he came, protested, and stood there in the rain.
This Irishman came to support Imran Khan while on crutches. I saw him at the train station, struggling to go down the stairs. Yet he came, protested, and stood there in the rain.
آ جا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
آ جا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
پھر یہ منت یہ التجا کیا ہے
چاند سا کہا تو کہنے لگے
چاند کہیئے نا یہ چاند سا کیا ہے
پھر یہ منت یہ التجا کیا ہے
چاند سا کہا تو کہنے لگے
چاند کہیئے نا یہ چاند سا کیا ہے
اور لمحے کی آنکھ لگ جائے
اور لمحے کی آنکھ لگ جائے
وہ میرے پاس میرے نام کی طرح ہوتا
وہ میرے پاس میرے نام کی طرح ہوتا
اب تجھے روز نہ سوچوں تو بدن ٹوٹتا ہے
اب تجھے روز نہ سوچوں تو بدن ٹوٹتا ہے
کیوں میرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
کیوں میرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
ہمارے شعروں میں آگیا کمال ویسے ہی
ہمارے شعروں میں آگیا کمال ویسے ہی
فراز میں نے بھی بخشش میں حد نہیں مانگی
فراز میں نے بھی بخشش میں حد نہیں مانگی
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پہ
لوگ لیتے ہیں مزہ ذکر تمہارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پہ
لوگ لیتے ہیں مزہ ذکر تمہارا کر کے
میں دل لگا رہا ہوں مگر لگ نہیں رہا
میں دل لگا رہا ہوں مگر لگ نہیں رہا
جو کچھ مجھے دیا ہے، لوٹا رہا ہوں میں
جو کچھ مجھے دیا ہے، لوٹا رہا ہوں میں