زندگی باپ کی کمائی ہو
میں کتنا ھی طاقتور کیوں نہ بن جاؤں ھر شام زندگی کا ایک دن کم ھوجاتا ھے
میں اسکو روک نہیں سکتا
لیکن میرا رب مجھے نئی صبح دیکر مہلت دے دیتا ھے
صبح بخیر
میں کتنا ھی طاقتور کیوں نہ بن جاؤں ھر شام زندگی کا ایک دن کم ھوجاتا ھے
میں اسکو روک نہیں سکتا
لیکن میرا رب مجھے نئی صبح دیکر مہلت دے دیتا ھے
صبح بخیر
میں نے جو سنگ تراشا وہ خدا ہو بیٹھا
اٹھ کے منزل ہی اگر آئے تو شاید کچھ ہو
شوقِ منزل میں میرا آبلہ پا ہو بیٹھا
فرحت شہزاد
#ایسے_ہی
میں نے جو سنگ تراشا وہ خدا ہو بیٹھا
اٹھ کے منزل ہی اگر آئے تو شاید کچھ ہو
شوقِ منزل میں میرا آبلہ پا ہو بیٹھا
فرحت شہزاد
#ایسے_ہی
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سے ایک بے کلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا
#ایسے_ہی
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سے ایک بے کلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا
#ایسے_ہی
کم سخن فاختاوں کے
زرد پرچم اڑاتا ہوا لشکر بے اماں
گل زمینوں کو پامال کرتا رہا
اور ہوا چپ رہی
آرزو مند آنکھیں بشارت طلب دل
دعاوں کو اٹھے ہاتھ سب بے ثمر رہ گئے
اور ہوا چپ رہی
جب کبھی رنگ و خوشبو کی آواز
خوابوں کی توہین کی جائے گی
یہ عذاب ان زمینوں پہ آتے رہیں گے
افتخار عارف
#ایسے_ہی
کم سخن فاختاوں کے
زرد پرچم اڑاتا ہوا لشکر بے اماں
گل زمینوں کو پامال کرتا رہا
اور ہوا چپ رہی
آرزو مند آنکھیں بشارت طلب دل
دعاوں کو اٹھے ہاتھ سب بے ثمر رہ گئے
اور ہوا چپ رہی
جب کبھی رنگ و خوشبو کی آواز
خوابوں کی توہین کی جائے گی
یہ عذاب ان زمینوں پہ آتے رہیں گے
افتخار عارف
#ایسے_ہی
#َِایسے_ہی
#َِایسے_ہی
آپ کے متبادل کو سوچنے کا موقع بھی اسکے متبادل آجانے کے بعد ہی ملتا ہے ۔۔۔
وگر نہ خوش فہمی پالنے میں کوئی قدغن نہیں ہے 😂😂😂
#ایسے_ہی
آپ کے متبادل کو سوچنے کا موقع بھی اسکے متبادل آجانے کے بعد ہی ملتا ہے ۔۔۔
وگر نہ خوش فہمی پالنے میں کوئی قدغن نہیں ہے 😂😂😂
#ایسے_ہی
تُو پھرے قریہ بہ قریہ، کُو بہ کُو میرے لیئے
میں تو لامحدود ہو جاؤں سمندر کی طرح
تُو بہے دریا بہ دریا، جُو بہ جُو میرے لیئے
اللّه حافظ
#ایسے_ہی
تُو پھرے قریہ بہ قریہ، کُو بہ کُو میرے لیئے
میں تو لامحدود ہو جاؤں سمندر کی طرح
تُو بہے دریا بہ دریا، جُو بہ جُو میرے لیئے
اللّه حافظ
#ایسے_ہی
بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر
ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اترنا لطف دیتا ہے
مقبول عامر
#َِایسے_ہی
بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر
ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اترنا لطف دیتا ہے
مقبول عامر
#َِایسے_ہی
لوٹ ائے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشک بو ہیں
خمار آغوش مہ وشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
سوال سارے، جواب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
#ایسے_ہی
لوٹ ائے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشک بو ہیں
خمار آغوش مہ وشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
سوال سارے، جواب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
#ایسے_ہی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
چچا غالب
اللّه حافظ
#َِایسے_ہی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
چچا غالب
اللّه حافظ
#َِایسے_ہی
ہر اک حادثے کے بعد دوسرے حادثے تک سب اچھا ہے کی گردان جاری رہتی ہے....
ملزمان کیفر کردار تک پہچانے جاتے ہیں.... اور مرنے والوں کو شہید اور زخمیوں کا پورا خیال رکھا جانے کی تکرار مسلسل جاری رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اور پھر یہی عمل اگلے حادثے تک جاری رہتا ہے
#KPK_insident
ہر اک حادثے کے بعد دوسرے حادثے تک سب اچھا ہے کی گردان جاری رہتی ہے....
ملزمان کیفر کردار تک پہچانے جاتے ہیں.... اور مرنے والوں کو شہید اور زخمیوں کا پورا خیال رکھا جانے کی تکرار مسلسل جاری رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اور پھر یہی عمل اگلے حادثے تک جاری رہتا ہے
#KPK_insident
دیکھا تجھے چاہا تجھے
سوچا تجھے پوجا تجھے
میری وفا میری خطا
تیری خطا کچھ بھی نہیں
ایک شام کی دہلیز پر
بیھٹے رہے وہ دیر تک
آنکھوں سے کی باتیں بہت
منہ سے کہا کچھ بھی نہیں
دو چار دن کی بات ہے
دل خاک میں مل جائے گا
آگ پہ جب کاغذ رکھا
باقی بچا کچھ بھی نہیں
دیکھا تجھے چاہا تجھے
سوچا تجھے پوجا تجھے
میری وفا میری خطا
تیری خطا کچھ بھی نہیں
ایک شام کی دہلیز پر
بیھٹے رہے وہ دیر تک
آنکھوں سے کی باتیں بہت
منہ سے کہا کچھ بھی نہیں
دو چار دن کی بات ہے
دل خاک میں مل جائے گا
آگ پہ جب کاغذ رکھا
باقی بچا کچھ بھی نہیں
جی میں آتا ہے کہ تعویز بنا لیں تم کو
پھر تمھں روز سنواریں تمھں بڑھتا دیکھں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تمکو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو
وصی شاہ
جی میں آتا ہے کہ تعویز بنا لیں تم کو
پھر تمھں روز سنواریں تمھں بڑھتا دیکھں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تمکو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو
وصی شاہ
روٹھ جایا کرتے ہیں لوگ لفظوں سے
روٹھ جایا کرتے ہیں لوگ لفظوں سے
وہ جو رنگ سایۂ شام تھے مجھے کھا گئے
لیاقت علی عاصم
وہ جو رنگ سایۂ شام تھے مجھے کھا گئے
لیاقت علی عاصم