Niaz Lashari
banner
niazlashari.bsky.social
Niaz Lashari
@niazlashari.bsky.social
Journalist

#Journalist by Profession #Human by Nature
اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کی نزاکت جانتے ہوئے بھی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی،جس رفتار سے ٹرائل چل رہا ہے ہائیکورٹ میں آئندہ تاریخ تک حتمی فیصلہ بھی آ چکا ہوگا،سپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے،اپیل پر فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکا جائے!
December 3, 2025 at 5:29 PM
اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کیخلاف ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کی،ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ٹرائل کورٹ کی آئندہ سماعت سے قبل اگلی سماعت کی جائے،
December 3, 2025 at 5:29 PM
اس کیس نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر قومی سلامتی کے نام پر اختلافِ رائے اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کےلئے آواز بلند کرنیوالوں کو دہشت گردی کے خانے میں ڈالنے کا سلسلہ کب رکے گا؟

‏⁦‪#Balochistan‬⁩
‏⁦‪#ReleaseBYCLeaders‬⁩
December 3, 2025 at 5:20 PM
مگر عدالت میں ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہ کیے جاسکے۔

‏عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف مقدمے کی کمزور بنیادوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ سیاسی و سماجی آوازوں کے خلاف کارروائیوں میں بدنیتی، کمزور تفتیش اور ثبوتوں کی عدم موجودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے
December 3, 2025 at 5:20 PM
جسے رہنما انسانی حقوق اور وکیل جبران ناصر ⁦‪@MJibranNasir‬⁩ کے مطابق ایک “مہرہ” بنا کر استعمال کیا گیا۔ پولیس کو بھی دباؤ کے تحت بغیر شواہد چالان پیش کرنے پر مجبور کیا گیا۔دوسری طرف ریاستی بیانیہ مسلسل بی وائی سی اور ماہ رنگ بلوچ پر سنگین الزامات دہراتا رہا ہے
December 3, 2025 at 5:20 PM
جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انکے روابط دہشت گرد تنظیموں سے ہیں،وہ نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں اور ریاست کے خلاف نفرت اور دشمنی کو فروغ دیتی ہیں۔

‏یہ مقدمہ ابتدا سے ہی شکوک کے گھیرے میں تھا کیونکہ ایف آئی آر درج کرانے والا شخص خود اسی تھانے میں تین مقدمات کا نامزد ملزم تھا،
December 3, 2025 at 5:20 PM
اس حیران کن انتخاب پر کمیٹی چیرپرسن پلوشہ خان، سینٹر سیف نیازی،ڈاکٹر ہمایوں مہمند، کامران مرتضے،
ڈاکٹر افننان اللہ خان نے سینٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن کمونیکشن میں سنگین سوالات اٹھا دیے اور ان کا کہنا تھا یہ سارا عمل مشکوک تھا۔

رؤف کلاسرا کی ٹیوٹر وال سے
#Islamabad
November 18, 2024 at 1:53 PM