رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
اپنے جذبات کو اب اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پہ اب منزل آزادی ہے
آگ اور خوں کے ادھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
اپنے جذبات کو اب اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پہ اب منزل آزادی ہے
آگ اور خوں کے ادھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی