ایمان،تقویٰ،جہاد فی سبیل اللہ
قالو ربناللہ ثم استقم
افلاس آوارہ پھرتی ہو۔
جہاں دھرتی بھوک اگلتی ہو
جہاں دکھ فلک سے بہتا ہو۔
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پہ پالے جاتے ہوں ۔
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہیں ۔
اس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دکھ جگر پر سہتی ہو۔
اور اپنے وطن کے لوگوں کو
آزادی مبارک کہتی ہے۔
افلاس آوارہ پھرتی ہو۔
جہاں دھرتی بھوک اگلتی ہو
جہاں دکھ فلک سے بہتا ہو۔
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پہ پالے جاتے ہوں ۔
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہیں ۔
اس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دکھ جگر پر سہتی ہو۔
اور اپنے وطن کے لوگوں کو
آزادی مبارک کہتی ہے۔
اس دیس کے ہر اک حاکم کو
سولی پہ چڑھانا واجب ہے
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر
پولیس کے ناکے ہوتے ہوں
اس دیس کے ہر اک حاکم کو
سولی پہ چڑھانا واجب ہے
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر
پولیس کے ناکے ہوتے ہوں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں ، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی ، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا ، اسے بھول جا
وہ جو درد تھا ترے بخت میں ، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی ، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا ، اسے بھول جا
تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا ، اسے بھول جا
کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا ، اسے بھول جا
تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا ، اسے بھول جا
کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا ، اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا، اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس تیرے گمان میں
صبا کہ گئی مرے کان میں میرے ساتھ آ اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا، اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس تیرے گمان میں
صبا کہ گئی مرے کان میں میرے ساتھ آ اسے بھول جا
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم ، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا
تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا اسے بھول جا۔
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم ، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا
تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا اسے بھول جا۔
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ ، اسے بھول جا
جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا ، اسے مت بلا ، اسے بھول جا
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ ، اسے بھول جا
جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا ، اسے مت بلا ، اسے بھول جا
میں کہاں جلا، کہاں بجھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
مجھ جان کر کوئی اجنبی وہ دِکھا رہے ہیں گلی گلی
اسی شہر میں مرا گھر بھی تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہ سمجھ کے دھوپ کے دیوتا مجھے آج پوجنے آئے ہیں
میں چراغ ہوں تیری شام کا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
میں کہاں جلا، کہاں بجھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
مجھ جان کر کوئی اجنبی وہ دِکھا رہے ہیں گلی گلی
اسی شہر میں مرا گھر بھی تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہ سمجھ کے دھوپ کے دیوتا مجھے آج پوجنے آئے ہیں
میں چراغ ہوں تیری شام کا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہی اپنے گھر میں تھا بے وفا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کہیں مسجدوں میں شہادتیں کہیں مندروں میں عدالتیں
یہاں کون کرتا ہے فیصلہ یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہی اپنے گھر میں تھا بے وفا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کہیں مسجدوں میں شہادتیں کہیں مندروں میں عدالتیں
یہاں کون کرتا ہے فیصلہ یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اسے لے گئی ہے کہاں ہوا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کئی لوگ جان جائیں گے مرے قاتلوں کی تلاش میں
مرے قتل میں مرا ہاتھ تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اسے لے گئی ہے کہاں ہوا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کئی لوگ جان جائیں گے مرے قاتلوں کی تلاش میں
مرے قتل میں مرا ہاتھ تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے
اک روز جو آ جاؤ گے حالات کی زد میں
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے
جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے
اک روز جو آ جاؤ گے حالات کی زد میں
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے ۔
سُنا ہے شیر بھی جب سَیر ہو حملہ نہیں کرتا ۔
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے ۔
سُنا ہے شیر بھی جب سَیر ہو حملہ نہیں کرتا ۔
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ۔
آزما کے بارہا آزمانے میں لگے ہو لگ رہو
قدرت نے مجھ کو کاوش بخشے ہیں آسماں
نیچا میری اُڑان کو دکھانے میں لگے ہو لگے رہو
آزما کے بارہا آزمانے میں لگے ہو لگ رہو
قدرت نے مجھ کو کاوش بخشے ہیں آسماں
نیچا میری اُڑان کو دکھانے میں لگے ہو لگے رہو
مرشداسے تو ہمسے ہی فرصت نہیں ملی
مرشد بہت سے مار کے ہمخود بھی مرگئے
مرشد ہمیں زرہ نہیں تلوار دی گئی
مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے
مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی
مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا
مرشد وہ ایک شخص بھی تقریر لے گئ
مرشداسے تو ہمسے ہی فرصت نہیں ملی
مرشد بہت سے مار کے ہمخود بھی مرگئے
مرشد ہمیں زرہ نہیں تلوار دی گئی
مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے
مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی
مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا
مرشد وہ ایک شخص بھی تقریر لے گئ
مرشد ! پلیز ، آج مجھے وقت دیجیے
مرشد میں آج آپ کو دکھڑے سناؤں گا
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا
مرشد ہمارے دیس میں اک جنگ چھڑ گئی
مرشد سبھی شریف شرافت سے مر گئے
مرشد ہمارے زہن گرفتار ہو گئے
مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہو گئی
مرشد ! پلیز ، آج مجھے وقت دیجیے
مرشد میں آج آپ کو دکھڑے سناؤں گا
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا
مرشد ہمارے دیس میں اک جنگ چھڑ گئی
مرشد سبھی شریف شرافت سے مر گئے
مرشد ہمارے زہن گرفتار ہو گئے
مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہو گئی
کسی نے سوچا نہیں گولیاں چلاتے ہوئے
یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہی
کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے
کسی نے سوچا نہیں گولیاں چلاتے ہوئے
یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہی
کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا۔😥
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا۔😥