Malikspeaks
banner
malikspeaks.bsky.social
Malikspeaks
@malikspeaks.bsky.social
Proud Muslim, Proud Pakistani 🇵🇰
ایمان،تقویٰ،جہاد فی سبیل اللہ
قالو ربناللہ ثم استقم
‏جس دیس کے کوچے کوچے میں
افلاس آوارہ پھرتی ہو۔

جہاں دھرتی بھوک اگلتی ہو
جہاں دکھ فلک سے بہتا ہو۔

جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پہ پالے جاتے ہوں ۔

جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہیں ۔

اس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دکھ جگر پر سہتی ہو۔

اور اپنے وطن کے لوگوں کو
آزادی مبارک کہتی ہے۔
December 23, 2024 at 4:26 PM
جس دیس سے ماؤں بہنوں کواغیار اٹھا کر لے جائیں
اس دیس کے ہر اک حاکم کو
سولی پہ چڑھانا واجب ہے
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر
پولیس کے ناکے ہوتے ہوں
December 23, 2024 at 4:21 PM
کیوں اَٹا ہوا ہے غبار میں ، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں ، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا

نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی ، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا ، اسے بھول جا
December 14, 2024 at 5:24 PM
کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم ، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا ، اسے بھول جا
کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا ، اسے بھول جا
December 14, 2024 at 5:23 PM
کہاں آکے رکنے تھے راستے ، کہاں موڑ تھا ، اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا، اسے بھول جا

میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس تیرے گمان میں
صبا کہ گئی مرے کان میں میرے ساتھ آ اسے بھول جا
December 14, 2024 at 5:22 PM
تو یہ کس لئے شبِ ہجر کے اسے ہر ستارے میں دیکھنا
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم ، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا

تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا اسے بھول جا۔
December 14, 2024 at 5:18 PM
یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا ، اسے دیکھ ، اس پہ یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ ، اسے بھول جا

جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا ، اسے مت بلا ، اسے بھول جا
December 14, 2024 at 5:18 PM
میرے پاس جتنی ہے روشنی ہے یہی چراغ کی زندگی
میں کہاں جلا، کہاں بجھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
مجھ جان کر کوئی اجنبی وہ دِکھا رہے ہیں گلی گلی
اسی شہر میں مرا گھر بھی تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہ سمجھ کے دھوپ کے دیوتا مجھے آج پوجنے آئے ہیں
میں چراغ ہوں تیری شام کا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
December 14, 2024 at 4:38 PM
وہ تمام دنیا کے واسطے جو محبتوں کی مثال تھا
وہی اپنے گھر میں تھا بے وفا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کہیں مسجدوں میں شہادتیں کہیں مندروں میں عدالتیں
یہاں کون کرتا ہے فیصلہ یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
December 14, 2024 at 4:37 PM
وہ بجھے گھروں کا چراغ تھا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اسے لے گئی ہے کہاں ہوا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کئی لوگ جان جائیں گے مرے قاتلوں کی تلاش میں
مرے قتل میں مرا ہاتھ تھا، یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
December 14, 2024 at 4:36 PM
کچھ ایسےمناظربھی گزرتے ہیں نظرسے
جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے
اک روز جو آ جاؤ گے حالات کی زد میں
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے
December 14, 2024 at 4:20 AM
مِرے اس ملک میں جنگل کا ہی قانون نافذ ہو ۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے ۔
سُنا ہے شیر بھی جب سَیر ہو حملہ نہیں کرتا ۔
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ۔
December 7, 2024 at 3:11 AM
گھٹیا مزاج لوگو گِرانے میں لگے ہو لگے رہو
آزما کے بارہا آزمانے میں لگے ہو لگ رہو
قدرت نے مجھ کو کاوش بخشے ہیں آسماں
نیچا میری اُڑان کو دکھانے میں لگے ہو لگے رہو
December 6, 2024 at 5:08 PM
مرشد ہماری نسل کیا لڑتی حریف سے
مرشداسے تو ہمسے ہی فرصت نہیں ملی
مرشد بہت سے مار کے ہمخود بھی مرگئے
مرشد ہمیں زرہ نہیں تلوار دی گئی
مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے
مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی
مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا
مرشد وہ ایک شخص بھی تقریر لے گئ
December 1, 2024 at 6:44 AM

مرشد ! پلیز ، آج مجھے وقت دیجیے
مرشد میں آج آپ کو دکھڑے سناؤں گا
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا
مرشد ہمارے دیس میں اک جنگ چھڑ گئی
مرشد سبھی شریف شرافت سے مر گئے
مرشد ہمارے زہن گرفتار ہو گئے
مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہو گئی
December 1, 2024 at 6:34 AM
کسی نے دیکھا نہیں کون ہے نشانے پر
کسی نے سوچا نہیں گولیاں چلاتے ہوئے
یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہی
کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے
November 29, 2024 at 1:51 PM
November 29, 2024 at 10:46 AM
🤐#killings
November 29, 2024 at 10:41 AM
ایک بار ضرور پڑھیں #
November 28, 2024 at 3:20 PM
November 27, 2024 at 5:41 PM
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں۔
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا۔😥
November 27, 2024 at 5:18 PM
🇵🇰 Zinda baad
November 17, 2024 at 2:07 PM
Bissmillah e Arrahman e Raheem.
November 17, 2024 at 2:06 PM
Assalam u alaikum
November 17, 2024 at 2:05 PM