لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
یہ قدرت کا دائمی اصول ہے
یہ قدرت کا دائمی اصول ہے
ہر عروج کو زوال ہے
ہر عروج کو زوال ہے
نہ گل کھلے رہے ہیں
نہ کلیاں مہک رہی ہیں
نہ پرندے چہچہا رہے ہیں
نہ ہی دریاؤں میں روانی ہے
نہ کسی شخص کے چہرے پر رونق ہے
کیسا ظلم وقت آیا ہے
نہ گل کھلے رہے ہیں
نہ کلیاں مہک رہی ہیں
نہ پرندے چہچہا رہے ہیں
نہ ہی دریاؤں میں روانی ہے
نہ کسی شخص کے چہرے پر رونق ہے
کیسا ظلم وقت آیا ہے
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں۔
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں۔
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا