banner
farrukhnawaz.bsky.social
@farrukhnawaz.bsky.social
محبت فاتح عالم
ہم کہانی کے وہ کردار ہیں اے جانِ غزل
ہم کہانی سے جو نکلیں تو کہانی نہ رہے

فرخ نواز فرخؔ
January 1, 2025 at 3:48 PM
کھینچ کر رات کی دیوار پہ مارے ہوتے
میرے ہاتھوں میں اگر چاند ستارے ہوتے

ہم نے اک دوجے کو خود ہار دیا، دکھ ہے یہی
کاش ہم دنیا سے لڑتے ہوئے ہارے ہوتے

واحد اعجاز میر
December 22, 2024 at 11:19 AM
اس لیے کوئی زیادہ نہیں رُکتا ہے یہاں
‎لوگ کہتے ہیں مرے دل پہ ترا سایا ہے

‎مزید ویڈیوز کے لیگ فالو کریں…

www.tiktok.com/@farrukhnawa...

#urdu #poetry #trending #shayari #urdupoetry
December 22, 2024 at 11:18 AM
دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہے
شہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے

میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغ
دوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے

پیاس جب توڑتی ہے سر پہ مصیبت کے پہاڑ
کوئی چشمہ میری آنکھوں سے ابل پڑتا ہے

بے خیالی میں اسی راہ پہ چل پڑتا ہوں ہوں
جانتا بھی ہوں کہ اس راہ میں تھل پڑتا ہے
December 5, 2024 at 11:55 AM
مرد ہمیشہ یہ سوچنا پسند کرتا ہے کہ وہ اپنا کام خود کر رہا ہے، جب کہ حقیقت میں وہ وہی کر رہا ہے، جو عورت چاہتی ہے،چاہے وہ عورت ماں ہو،بہن ہو،بیٹی ہو یا بیوی ہو۔
لیکن ایک عقلمند عورت اسے ہمیشہ یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ وہی ہے، جو پتوار چلا رہا ہے، چاہے یہ معاملہ نہ بھی ہو.،
December 5, 2024 at 2:14 AM
سچ بات مان لیجئے چہرے پہ دھول ہے
الزام آئینوں پہ لگانا فضول ہے
December 4, 2024 at 6:16 PM
سسکیوں نے چار سو دیکھا کوئی ڈھارس نہ تھی
ایک تنہائی تھی اس کی گود میں سر رکھ لیا...
December 4, 2024 at 8:05 AM
تیرے ہونے سے سمجھتا تھا کہ دنیا تم ہو !!
ویسے دنیا کو میں بیکار کہا کرتا تھا !!

تجھ سے بچھڑا ہوں تو رویا ہوں وگرنہ کل تک !!
رونے والوں کو میں فنكار کہا کرتا تھا !!
December 4, 2024 at 8:00 AM
جس نے تنہائی کی بانہوں میں گزاری ہو حیات۔۔۔
تُو اسے چھوڑ کے جانے سے ڈراتا کیا ہے!

میری جیبوں میں محبت کے ہیں سکے لیکن۔۔۔
آج کے دور میں ان سکوں سے آتا کیا ہے!!!
December 4, 2024 at 7:55 AM
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
December 4, 2024 at 7:53 AM
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی
نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
December 4, 2024 at 7:52 AM
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

شکیب جلالی
December 4, 2024 at 7:51 AM
وقتِ رخصت وہ چُپ رہے عابدؔ
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
December 4, 2024 at 7:50 AM
شاہجہاں نے بھی نچوڑا ہوگا رعایا کا لہو
اپنے پیسوں سے ، کہاں تاج محل بنتا ہے
December 4, 2024 at 7:21 AM
شاعری کی دنیا میں فراز صاحب کی شاعری سے مجھے بےپناہ محبت ہے۔ فراز صاحب نبض شناس ہیں۔یہی محسوس ہوتا ہی کہ فراز صاحب نے جو لکھا ہے وہ میرا ہی قصہ ہے۔

وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ، ہونے تک

زندگی! اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
December 4, 2024 at 6:08 AM
تم تو بندوق کے بل پر جیتے
میں نہتہ تھا ہارنا تھا مجھے
اس لیے دل سے لگایا مجھ کو
تم نے دھوکے سے مارنا تھا مجھے

فرخ نواز فرخؔ
December 3, 2024 at 6:23 PM
یہ بات تلخ ہے لیکن تمہیں بتا دوں یار
‏تیرا رویہ تعلق کی جان لے لے گا🩶
December 3, 2024 at 2:14 PM
‏جیسے ساحل سے چھڑا لیتی ہیں موجیں دامن۔
کتنا سادہ ہے تیرا مجھ سے گریزاں ہونا!!
December 3, 2024 at 2:12 PM
گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہو
وہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیں
---
آنس معین
December 3, 2024 at 3:28 AM
بتوں کے شہر میں لُٹتے تو کوئی بات بھی تھی
خدا گواہ ہے لُٹے ہیں خدا کی بستی میں
December 3, 2024 at 3:11 AM
گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی

آنس معین
December 3, 2024 at 2:46 AM
گونجتا ہے بدن میں سناٹا
کوئی خالی مکان ہو جیسے

آنس معین
December 3, 2024 at 2:31 AM
جب اللہ رب العزت سے دوستی ہو جاتی ہے تو وہ اپنے دوستوں کو بہت سی کنجیاں عطا کر دیتا ہے ان میں سے ایک کنجی دلوں کے قفل کھولنے کی بھی ہوتی ہے۔
December 2, 2024 at 7:25 PM
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

آنس معین
December 2, 2024 at 6:36 PM