bayadub.bsky.social
@bayadub.bsky.social
منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے
‏تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے

‏ کومل جوئیہ
February 13, 2025 at 4:16 PM
اک اور عمر دے مجھے____ جینے کے واسطے___
تونے جو عمر دی تھی___مرنے میں لگ گئی____
February 12, 2025 at 5:15 AM
عَظیم لوگ تھے ٹُوٹے تو اِک وقار کے ساتھ،
کِسی سے کُچھ نہ کہا بس اُداس رہنے لگے_!!
February 11, 2025 at 10:24 AM
عاشق ، چور ، فقیر ، خُدا توں منگدے گھپ ہنیرا
اک لٹاوے ، اک لٹے ، اک آکھے سب کچھ تیرا
February 4, 2025 at 9:13 AM
بتوں کو دیکھتی رہتی ھے آتے جاتے ھوئے
ہماری آنکھ عبادت گذار تھوڑی ھے
بہت سے لوگ ظالم ہیں میرے قبیلے کے
گناہگار فقط خاکسار تھوڑی ھے
January 30, 2025 at 9:56 AM
اس کے لفظوں کی کرامات بتاؤں تم کو
دل پہ لگتے تھے تو آنکھوں سے نکل آتے تھے.
January 27, 2025 at 3:25 AM
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے..
everyone
January 22, 2025 at 3:41 AM
حیران بیٹھا ھوں وقت کا دھاگہ لے کر
روح کو رفو کروں کہ اپنے خواب بنوںُ ۔۔؟
January 16, 2025 at 9:18 AM
تم کو مری دھڑکن کے توازن کی قسم ہے
اس دل سے اترنا بھی سلیقے سے پڑے گا

اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا
January 14, 2025 at 1:52 PM
خودبخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے اَحباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے

ہم بھی غالِب کی طرح کوچئہ جاناں سے
نہ نکلتے تو کسی روز نِکالے جاتے
January 12, 2025 at 1:13 AM
یہ سرد رات ، یہ آوارگی ، یہ نیند کا بوجھ
ہم تیری چھاوں میں ہوتے تو سو گئے ہوتے
January 11, 2025 at 2:19 AM
چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت
پر اصلی کم، بہرُوپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا
جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
December 30, 2024 at 6:42 PM
دھند کی شال میں لپٹے ہوئے منظر کی طرح
یاد آیا ہے کوئی آج پھر گزرتے دسمبر کی طرح
December 30, 2024 at 3:41 AM
جے تنگ ہووے ساڈی ذات کولوں
دے صاف ڈسا تیڈی جان چھٹے

تیکوں پیار کیتا تیڈا مجرم ہاں
دے سخت سزا تیڈی جان چھٹے

رب توں منگی ضائع نئی تھیندی
منگ دیکھ دعا تیڈی جان چھٹے

ایوی مار نا شاکر قسطاں وچ
یک مشت مکا تیری جان چھٹے🥀💔
شاکر شجاع آبادی
December 27, 2024 at 6:10 AM
اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
مگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہوا

تعلقات کے برزخ میں ہی رکھا مجھ کو
وہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ ہوا

عجب تھا جرم محبت کہ جس پہ دل نے مرے
سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی نہ ہوا
December 27, 2024 at 6:04 AM
آخری چاند کی تاریخیں تھیں ساحل پر ویرانہ تھا
دھڑکن دھیمی دھیمی تھی اور درد بھی کچھ انجانا تھا

کتنی گہری بات کہی تھی چونک کے میں نے دیکھا جب
اس کی آنکھ میں جھیل نہیں تھی اک پورا میخانہ تھا ۔
December 22, 2024 at 5:00 PM
وہ جب تلک حیات تھی ادیب ! ڈھال تھی
میں ماں کے بعد موسموں کی زد میں آگیا

ادیب ہزاروی
December 21, 2024 at 2:14 AM
کیا ستم ہو کہ نئے سال کو چل دیں ہم لوگ
اور تعاقب میں وہی روگ پرانے لگ جائیں

عمرِ رفتہ کو ترے شہر کے بازاروں میں
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ممکن ہے زمانے لگ جائیں

علی شاکر
December 20, 2024 at 5:15 AM
رہِ جُنوں میں یہ دل اپنے ہاتھ بیعت ہے
ہمارا دشت سے کُچھ سِلسِلہ نہیں ملتا

یہ دل بھی ایک فراغت کی ماری شے ہے، جسے
سِوائے عشق کوئی مشغلہ نہیں ملتا

وہ شخص ایسا حسیں بھی نہیں، مگر دل کو
جہاں میں اُس سا کوئی دُوسرا نہیں ملتا

سیماب ظفر
December 19, 2024 at 3:57 AM
ملے تو مل لیے بچھڑے تو یاد بھی نہ رہے
تعلقات میں ایسی رواروی بھی نہ ہو

افتخار عارف
December 18, 2024 at 6:08 AM
تو ڈھونڈتی ہے اب کسے اے شامِ زندگی
وہ دِن تو خرچ ہو گئے غم کے حساب میں

ناصر کاظمی
December 14, 2024 at 4:27 AM
ٹوٹ کر چاہا جسے وہ لوٹ کر آیا نہیں
میرے دل کو اس کے سوا کچھ بھایا نہیں
پیار کی سوداگری میں ہم برابر ہی رہے
اس نے کچھ کھویا نہیں
میں نے کچھ پایا نہیں
December 13, 2024 at 2:23 AM
آخری چاند کی تاریخیں تھیں ساحل پر ویرانہ تھا
دھڑکن دھیمی دھیمی تھی اور درد بھی کچھ انجانا تھا

کتنی گہری بات کہی تھی چونک کے میں نے دیکھا جب
اس کی آنکھ میں جھیل نہیں تھی اک پورا میخانہ تھا

شائستہ مفتی
December 11, 2024 at 2:15 PM
کہو تو لوٹ جاتے ہیں!
ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
!!

امجد اسلام امجد
December 9, 2024 at 10:08 AM
December 6, 2024 at 3:57 AM