Urdu Poetry travelling
دم بدم گام گام پیتا ہوں
شیخ و مفتی عدمؔ جب آ جائیں
بن کے ان کا امام پیتا ہوں
دم بدم گام گام پیتا ہوں
شیخ و مفتی عدمؔ جب آ جائیں
بن کے ان کا امام پیتا ہوں
مریض اب نہ کہے گا سحر نہیں ہوتی
قمرؔ یہ شام فراق اور اضطراب سحر
ابھی تو چار پہر تک سحر نہیں ہوتی
مریض اب نہ کہے گا سحر نہیں ہوتی
قمرؔ یہ شام فراق اور اضطراب سحر
ابھی تو چار پہر تک سحر نہیں ہوتی
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی