جسم ایک خاک کا پیکر ہے بکھر جائے گا۔
شاعر : عبدالسلام زلفی
ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا
راحت اندوری
ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا
راحت اندوری
کبھی نہ ماند پڑے تیری آرزو مجھ میں
کبھی نہ ماند پڑے تیری آرزو مجھ میں
گیت غماں دا چھو کے بیٹھا
تیرے نال محبت پا کے!!
سجناں ویکھ میں رو کے بیٹھا۔
گیت غماں دا چھو کے بیٹھا
تیرے نال محبت پا کے!!
سجناں ویکھ میں رو کے بیٹھا۔
ھاں ! مَیں فریفتہ ھُوں ترے خدّوخال پر
آ، تُو بھی حِصّہ ڈال دے اس کارِ خَیر میں
آ، تُو بھی پاؤں رکھ دے دلِ پائمال پر
ھاں ! مَیں فریفتہ ھُوں ترے خدّوخال پر
آ، تُو بھی حِصّہ ڈال دے اس کارِ خَیر میں
آ، تُو بھی پاؤں رکھ دے دلِ پائمال پر
جو ہم نے گلے ملکر بہائے تھے
نہ جانے وقت ان آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
مگر میری فریب وقت کی بہکی ہوئی آنکھوں نے
اس کے بعد بھی
مرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ہیں
مگر یوں ہے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
مری آنکھیں
گلے ملتے ہوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو
پھر نہ رو پائیں
جو ہم نے گلے ملکر بہائے تھے
نہ جانے وقت ان آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
مگر میری فریب وقت کی بہکی ہوئی آنکھوں نے
اس کے بعد بھی
مرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ہیں
مگر یوں ہے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
مری آنکھیں
گلے ملتے ہوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو
پھر نہ رو پائیں
ہمارے حصے میں کچھ آگ فالتو آئی
محمد طٰہٰ ابراہیم
ہمارے حصے میں کچھ آگ فالتو آئی
محمد طٰہٰ ابراہیم
قدم اُٹھیں نہ اُٹھیں کوئی جستجو تو رہے
جون ایلیاء
قدم اُٹھیں نہ اُٹھیں کوئی جستجو تو رہے
جون ایلیاء
تمہیں دُکھ نہ ہونے کا بڑا دُکھ ہوگا
تمہیں دُکھ نہ ہونے کا بڑا دُکھ ہوگا
اوہ وی چُپ سی
نہ ھَسّے نہ روئے۔
نہ کُجھ پُچھیا
نہ کُجھ دَسیا
وِچَھڑ گئے فِر دوئے۔
اوہ وی چُپ سی
نہ ھَسّے نہ روئے۔
نہ کُجھ پُچھیا
نہ کُجھ دَسیا
وِچَھڑ گئے فِر دوئے۔
اور چیخوں کہ میں اکیلا ہوں
ادریس بابر
اور چیخوں کہ میں اکیلا ہوں
ادریس بابر
ردِعمل، بحث، یا کھینچاتانی میں پڑنے کی بجائے بس
اپنی موجودگی ہی واپس لے لیں
ردِعمل، بحث، یا کھینچاتانی میں پڑنے کی بجائے بس
اپنی موجودگی ہی واپس لے لیں
پچھتاوا ، جدائی، بے قدری، ادھوارے خواب، تنہائی
انتظار، خاموشی، لا حاصل چیز، صبر ۔۔🥹🖤
پچھتاوا ، جدائی، بے قدری، ادھوارے خواب، تنہائی
انتظار، خاموشی، لا حاصل چیز، صبر ۔۔🥹🖤
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے۔
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے۔
سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا
بیکل اتساہی
سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا
بیکل اتساہی
آ کسی وقت ادھر
درد کے روپ میں آ درد کچھ اور بڑھا
آ ----------- کہ اک پل کو سہی بخش کچھ اور کنول
آ ------------ میری روح میں اتر
درد کی سرحد سے ----------------------- ادھر!
آ کسی وقت ادھر
درد کے روپ میں آ درد کچھ اور بڑھا
آ ----------- کہ اک پل کو سہی بخش کچھ اور کنول
آ ------------ میری روح میں اتر
درد کی سرحد سے ----------------------- ادھر!
اِس گہرائی تک
سرائیت کر چُکی ہے
کہ اب مُجھے
اُسکی ضرورت نہیں رہی....
اِس گہرائی تک
سرائیت کر چُکی ہے
کہ اب مُجھے
اُسکی ضرورت نہیں رہی....
تمہارے ساتھ جو تھکتے رہے کہاں جائیں
تمہارے ساتھ جو تھکتے رہے کہاں جائیں
وہ کبھی نہ جان سکے گا وہ میرے لیے کیا تھا۔۔
وہ کبھی نہ جان سکے گا وہ میرے لیے کیا تھا۔۔
لیکن وہ مرے خواب، مرے خواب، مرے خواب!
لیکن وہ مرے خواب، مرے خواب، مرے خواب!
ہماری جیب میں پیسے نہیں ملیں گے تمھیں
ہماری جیب میں پیسے نہیں ملیں گے تمھیں
علاجِ غم بنے رنج و الم آہستہ آہستہ.
علاجِ غم بنے رنج و الم آہستہ آہستہ.
کس طرح ضبط کروں صبح بچھڑنا تیرا.
کس طرح ضبط کروں صبح بچھڑنا تیرا.