بھائی مبارک ہو آپکے گھر سلاد آیا ہے
بھائی مبارک ہو آپکے گھر سلاد آیا ہے
وہ اپنے لیڈرز بچپن سے ہی تیار کرنے شروع کر دیتا ہے
اسے شیئر کریں یا کاپی پیسٹ
اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں
شاید ہم ذہنوں کو غلامی سے آزاد کر سکیں
وہ اپنے لیڈرز بچپن سے ہی تیار کرنے شروع کر دیتا ہے
اسے شیئر کریں یا کاپی پیسٹ
اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں
شاید ہم ذہنوں کو غلامی سے آزاد کر سکیں
جب یہی بچے کالج جاتے ہیں یا یونیورسٹی تو ان کے لیئے
کسی بھی بزنس کے ساتھ انٹرن شپ لازمی ہوتی ہے
وہ چاہے ابامہ کی بیٹی ہو ٹرمپ کا بیٹا
سب ریسٹورنٹس ، سپر مارکٹس ، یا میکڈانلڈ پہ کام کریں گے تو ڈگری ملے گی ورنہ گھر بیٹھو
امریکہ ایویں ای نہیں دنیا کو لیڈ کر رہا ؟
جب یہی بچے کالج جاتے ہیں یا یونیورسٹی تو ان کے لیئے
کسی بھی بزنس کے ساتھ انٹرن شپ لازمی ہوتی ہے
وہ چاہے ابامہ کی بیٹی ہو ٹرمپ کا بیٹا
سب ریسٹورنٹس ، سپر مارکٹس ، یا میکڈانلڈ پہ کام کریں گے تو ڈگری ملے گی ورنہ گھر بیٹھو
امریکہ ایویں ای نہیں دنیا کو لیڈ کر رہا ؟
وہ ریلوے سٹیشن کے باہر یا کسی آفس بلڈنگ کے باہر کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں سے اس کے خریدنے کی ریکویسٹ کر رہے ہوتے ہیں
ٹیچرز اور والدین
دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے معاشرے کو Confidence
سے
وہ ریلوے سٹیشن کے باہر یا کسی آفس بلڈنگ کے باہر کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں سے اس کے خریدنے کی ریکویسٹ کر رہے ہوتے ہیں
ٹیچرز اور والدین
دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے معاشرے کو Confidence
سے
نہ سکولوں کو ان پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی ماں باپ کے اندر کوئ خناس بھرا ہوتا ہے کہ میں اتنا امیر آدمی کہ میرا بچہ گھر گھر جا کر ٹافیاں بیچ رہا ہے
نہ سکولوں کو ان پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی ماں باپ کے اندر کوئ خناس بھرا ہوتا ہے کہ میں اتنا امیر آدمی کہ میرا بچہ گھر گھر جا کر ٹافیاں بیچ رہا ہے
تقریباً سبھی ماں باپ اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ خود ہی سارے ڈبے خرید کر انہیں پیسے دے دیں کہ وہ جا کر سکول میں جمع کروا دیں
لیکن وہ ایسے نہیں کرتے
تقریباً سبھی ماں باپ اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ خود ہی سارے ڈبے خرید کر انہیں پیسے دے دیں کہ وہ جا کر سکول میں جمع کروا دیں
لیکن وہ ایسے نہیں کرتے
بچہ خود جا کر وہ چاکلیٹ بیچتا ہے
ماں باپ ان کی وکالت نہیں کرتے بلکہ صرف حفاظت کی خاطر ان کے ساتھ ہوتے ہیں
وہ فٹ ہاتھ پہ کھڑے رہتے ہیں بچہ خود دروازہ کھٹکٹھاتا ہے وہ خود بات کرتا ہے بعض اوقات لوگ ان سے مختلف سوال بھی کرتے ہیں اور بچہ ان کے جواب بھی دیتا ہے
امیر بچے اپنے assign
بچہ خود جا کر وہ چاکلیٹ بیچتا ہے
ماں باپ ان کی وکالت نہیں کرتے بلکہ صرف حفاظت کی خاطر ان کے ساتھ ہوتے ہیں
وہ فٹ ہاتھ پہ کھڑے رہتے ہیں بچہ خود دروازہ کھٹکٹھاتا ہے وہ خود بات کرتا ہے بعض اوقات لوگ ان سے مختلف سوال بھی کرتے ہیں اور بچہ ان کے جواب بھی دیتا ہے
امیر بچے اپنے assign
Assign
کر دیا جاتا ہے
ان میں غریب سے غریب تر اور ملینئر ز سے لے کر بلینئر ز تک سب کے بچے شامل ہوتے ہیں
وہ بچے گھر گھر ، بزنس ٹو بزنس جاتے ہیں اور وہ چاکلیٹ بارز بیچتے ہیں
یہ پریکٹس ہر سال کروائ جاتی ہے
چھوٹے بچوں کے والدین ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ پیچھے کھڑے
Assign
کر دیا جاتا ہے
ان میں غریب سے غریب تر اور ملینئر ز سے لے کر بلینئر ز تک سب کے بچے شامل ہوتے ہیں
وہ بچے گھر گھر ، بزنس ٹو بزنس جاتے ہیں اور وہ چاکلیٹ بارز بیچتے ہیں
یہ پریکٹس ہر سال کروائ جاتی ہے
چھوٹے بچوں کے والدین ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ پیچھے کھڑے