ضمیر کا قیدی
banner
chohan2132.bsky.social
ضمیر کا قیدی
@chohan2132.bsky.social
قسم اصول کی کھائی ہے زندگی کی نہیں۔

بقا کو جھکنا پڑا تو فنا خریدیں گے
‏دھمال دُھول اُڑائے ، تو ، عشق ہوتا ہے
وجود وجد میں آئے ، تو ، عشق ہوتا ہے
بہا رہا ہے وہ جلتے چراغ پانی میں
اُتر کے تہہ میں جلائے تو عشق ہوتا ہے
November 29, 2024 at 11:38 AM


اٹھاون کروڑ اڑتیس لاکھ بیس ہزار اس سے پہلے والے احتجاج کے بقایاجات۔ کے پی کے وسائل کس بے دردی سے خرچ ہو رہے ہیں
November 19, 2024 at 4:48 PM