ضمیر کا قیدی
banner
chohan2132.bsky.social
ضمیر کا قیدی
@chohan2132.bsky.social
قسم اصول کی کھائی ہے زندگی کی نہیں۔

بقا کو جھکنا پڑا تو فنا خریدیں گے
‏دھمال دُھول اُڑائے ، تو ، عشق ہوتا ہے
وجود وجد میں آئے ، تو ، عشق ہوتا ہے
بہا رہا ہے وہ جلتے چراغ پانی میں
اُتر کے تہہ میں جلائے تو عشق ہوتا ہے
November 29, 2024 at 11:38 AM
‏اللہ جانے غنڈہ پور کے پاس کرایہ بھی ہے کہ نہیں۔ ضلعے بھی پورے بارہ ہیں۔
November 26, 2024 at 8:29 PM
‏یہ جو عین ، یہ جو شین ، یہ جو قاف کرتا ہے
یہ لاحق جس کو ہو جائے اُسے بے باک کرتا ہے
ریاضی داں بھی حیراں ہے اس بات پر اب تک
یہ کس کُلیے کی نسبت جُفت کو یوں طاق کرتا ہے
November 24, 2024 at 8:21 PM
‏کسی بھی اور کو تیری جگہ نہ دی میں نے
گلے لگا لی ہے بڑھ کر تیری کمی میں نے
November 24, 2024 at 3:19 AM
‏اے محتسبِ شہر نہیں تجھ سے شکایت
ہم خود ہی دل و جاں کی تباہی کا سبب ہیں
November 19, 2024 at 4:51 PM


اٹھاون کروڑ اڑتیس لاکھ بیس ہزار اس سے پہلے والے احتجاج کے بقایاجات۔ کے پی کے وسائل کس بے دردی سے خرچ ہو رہے ہیں
November 19, 2024 at 4:48 PM