بقا کو جھکنا پڑا تو فنا خریدیں گے
وجود وجد میں آئے ، تو ، عشق ہوتا ہے
بہا رہا ہے وہ جلتے چراغ پانی میں
اُتر کے تہہ میں جلائے تو عشق ہوتا ہے
وجود وجد میں آئے ، تو ، عشق ہوتا ہے
بہا رہا ہے وہ جلتے چراغ پانی میں
اُتر کے تہہ میں جلائے تو عشق ہوتا ہے
یہ لاحق جس کو ہو جائے اُسے بے باک کرتا ہے
ریاضی داں بھی حیراں ہے اس بات پر اب تک
یہ کس کُلیے کی نسبت جُفت کو یوں طاق کرتا ہے
یہ لاحق جس کو ہو جائے اُسے بے باک کرتا ہے
ریاضی داں بھی حیراں ہے اس بات پر اب تک
یہ کس کُلیے کی نسبت جُفت کو یوں طاق کرتا ہے
گلے لگا لی ہے بڑھ کر تیری کمی میں نے
گلے لگا لی ہے بڑھ کر تیری کمی میں نے
ہم خود ہی دل و جاں کی تباہی کا سبب ہیں
ہم خود ہی دل و جاں کی تباہی کا سبب ہیں
اٹھاون کروڑ اڑتیس لاکھ بیس ہزار اس سے پہلے والے احتجاج کے بقایاجات۔ کے پی کے وسائل کس بے دردی سے خرچ ہو رہے ہیں
اٹھاون کروڑ اڑتیس لاکھ بیس ہزار اس سے پہلے والے احتجاج کے بقایاجات۔ کے پی کے وسائل کس بے دردی سے خرچ ہو رہے ہیں