دوڑنے میں بھی مسئلہ ہو
راستے سارے بند ہو جائیں
دشمن ظفر مند ہو جائیں
ہم تلوار اتارے دیتے ہیں
ہم شلوار اتارے دیتے ہیں
سقوط ڈھالہ
black day
دوڑنے میں بھی مسئلہ ہو
راستے سارے بند ہو جائیں
دشمن ظفر مند ہو جائیں
ہم تلوار اتارے دیتے ہیں
ہم شلوار اتارے دیتے ہیں
سقوط ڈھالہ
black day
اب چاند ستاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
اب چاند ستاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
اس ریاست کا ہر بندہ یہاں نہیں رہنا چاہتا۔
یہاں پر غریب کے لئے مذہب اور امیر طاقتور کے لئے جنت ہے۔
اس ریاست کا ہر بندہ یہاں نہیں رہنا چاہتا۔
یہاں پر غریب کے لئے مذہب اور امیر طاقتور کے لئے جنت ہے۔
جب ایک انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو ؟
ہم اہلِ حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو
جب ایک انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو ؟
ہم اہلِ حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو
وہ ڈھول، تھاپ، بانسری ، وہ ہر دھمال مسترد..
مبارک صدیقی
وہ ڈھول، تھاپ، بانسری ، وہ ہر دھمال مسترد..
مبارک صدیقی
پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے
اک برقِ بلا کوند گئی سارے چمن پر
تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے!
ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!
پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے
اک برقِ بلا کوند گئی سارے چمن پر
تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے!
ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
مگر ایک جگنو ہواوں میں ابھی روشنی کا امام ہے
بشیر بدر
مگر ایک جگنو ہواوں میں ابھی روشنی کا امام ہے
بشیر بدر
کہ اب تو بھول گئے ہیں راستے بھی گھر کے مجھے
کہ اب تو بھول گئے ہیں راستے بھی گھر کے مجھے
بقلم خود
بقلم خود
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا