Ali Shair Cheema
banner
alishair514.bsky.social
Ali Shair Cheema
@alishair514.bsky.social
جب اسلحہ کے مقابل اسلحہ ہو
دوڑنے میں بھی مسئلہ ہو
راستے سارے بند ہو جائیں
دشمن ظفر مند ہو جائیں
ہم تلوار اتارے دیتے ہیں
ہم شلوار اتارے دیتے ہیں

سقوط ڈھالہ
black day
December 16, 2024 at 3:09 AM
شائد یہ اندھیرے ہی مجھے راہ دکھائیں
اب چاند ستاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
December 13, 2024 at 3:57 AM
December 3, 2024 at 2:06 PM
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
November 25, 2024 at 3:59 AM
افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع جرنیلی چودیہ ریاست کنٹینرستان واقع ہے جو کے ہندوستان کے مغربی بارڈر کے ساتھ سمندر تک جاتا ہے۔
اس ریاست کا ہر بندہ یہاں نہیں رہنا چاہتا۔
یہاں پر غریب کے لئے مذہب اور امیر طاقتور کے لئے جنت ہے۔
November 23, 2024 at 11:48 AM
جب دنیا کے بُت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو
جب ایک انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو ؟

ہم اہلِ حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو
November 23, 2024 at 4:18 AM
مُرشد تجھے قید کیا گیا ہے لیکن تیری خوبصورتی اور خشبو کو نہیں۔
November 22, 2024 at 5:33 AM
‏عبث ہیں وہ ریاضتیں،جو یار کو نہ منا سکیں
‏وہ ڈھول، تھاپ، بانسری ، وہ ہر دھمال مسترد..

‏مبارک صدیقی
November 22, 2024 at 2:55 AM
Hubble Telescope to galaxy side.
November 21, 2024 at 6:26 PM
پھر شورِ سلاسل میں سرورِ ازلی ہے
پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے

اک برقِ بلا کوند گئی سارے چمن پر
تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے

دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے!

ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!
November 21, 2024 at 9:45 AM
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
November 20, 2024 at 6:43 PM
میں یہ مانتا ہوں میرے دئیے تیری آندھیوں نے بجھا دئے
مگر ایک جگنو ہواوں میں ابھی روشنی کا امام ہے

بشیر بدر
November 20, 2024 at 8:37 AM
ہوائے دشت اب تو مجھے اجنبی نہ سمجھ
کہ اب تو بھول گئے ہیں راستے بھی گھر کے مجھے
November 19, 2024 at 5:54 PM
خوبصورتی آپ کے ساتھ سائے کی طرح گھوم رہی ہے بس آپ نے خود کو قائل کرنا ہے کہ جو پاس ہے وہ پیارا ہے۔
بقلم خود
November 19, 2024 at 4:06 PM
آئن جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
November 19, 2024 at 3:29 PM
November 19, 2024 at 3:29 PM
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
November 18, 2024 at 5:28 PM
جو فالو بیک دے گا وہی رہے گا باقی چڑھیں سکائی بلو پر۔
November 18, 2024 at 3:14 PM