banner
@ab7317.bsky.social
ہم سے مرا تو نہیں گیا لیکن۔۔۔۔۔۔
حالت زندہ رہنے جیسے بھی نہیں رہی!!
February 22, 2025 at 10:34 PM
لوگوں میں بانٹتے رہا کریں ،
دوا نہیں تو دعا، علاج نہیں تو تسلی ،
کچھ نہیں تو میٹھے بول اور مسکراہٹ_!!
February 19, 2025 at 1:12 AM
تیرے کرتے کی سلائی پہ وہ درزی ہو شہید
ایک نلکی کی خریداری پہ یوں جنگ لگے۔۔
تیرے نینوں کے کناروں پہ دو دھاری کاجل
ہائے قصّاب کی چھریوں کو ناں زنگ لگے...!!
January 5, 2025 at 8:35 AM
ایک سو سولہ چاند کی راتیں

ایک تیرے کاندھے کا تل
January 5, 2025 at 8:00 AM
پہلے اجنبی،پھر دوست،پھر لمبی باتیں،پھر مختصر باتیں، پھر وہی اجنبی
January 4, 2025 at 2:36 PM
بنا کے مجھ کو وہ پھر سے بکھیر دیتا ہے۔۔
میں ایک دستِ ہنر مند کے عذاب میں ہوں۔۔
January 1, 2025 at 1:29 PM
تُو میسر جو ہوتا،، تو کہتے ہم بھی
بھلی شے ھے محبت،، سبھی کیجئیے💕
December 29, 2024 at 5:25 PM
اب کہ ھے دسمبر اور وہ نازک جاں
مرے ہاتھوں کی تپش کو ترستا ہوگا
December 27, 2024 at 7:33 AM
‏پھر نئے سال کی سرحد پر کھڑے ہیں ہم لوگ
خاک ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی؟؟
December 27, 2024 at 6:43 AM
‏لوگوں کو پراپرٹی چاہئے
اور
مجھے پراپر Tea ☕️ چاہئے
#
December 27, 2024 at 6:21 AM
جو چیز کسی کو زیادہ مقدار میں دی جائے وہ ہمیشہ ضائع ہی ہوتی ہے چاہے وہ توجہ ہو، احساس ہو، یا محبت ہو یا پھر اپنی زندگی کا قیمتی ترین وقت !!!____🥀
December 25, 2024 at 6:57 AM
December 17, 2024 at 2:40 AM
December 5, 2024 at 4:18 PM
December 5, 2024 at 5:23 AM
December 4, 2024 at 9:02 AM
وہ زمین پر پاؤں کیوں رکھے
میرے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا 🥀
December 3, 2024 at 5:26 AM
😭😭😭😢
November 27, 2024 at 4:45 PM
November 25, 2024 at 5:57 PM
‏دشتِ وحشت میں سرابوں کی اذیت کے سِوا
اِک محبت تھی مرے پاس رہی وہ بھی نہیں
November 21, 2024 at 5:38 PM
ہوائیں معذرت بھی کر لیں تو ٹہنیاں ٹوٹی ہی رہتی ہیں💔
November 21, 2024 at 3:20 PM
اے محتسبِ شہر نہیں تجھ سے شکایت
ہم خود ہی دل و جاں کی تباہی کا سبب ہیں۔
November 21, 2024 at 3:01 PM
‏دسترس میں زمین تھی ہی نہیں
میں خیالوں میں گھر بناتا رہا..........
November 21, 2024 at 2:55 PM
میں تُمہیں...!!
ایک سیاہ لِباس میں دیکھنا چاہتا ہُوں...!!
جِس میں سے تُم...!!
فجر کی طرح طُلوع ہو سکو...🙂🖤
November 21, 2024 at 1:42 PM
جو عورت اپنے سنگار کے پیسوں سے کتابیں خریدتی ہے اور پڑھتی ہے، وہ معاشرے میں عظیم لوگوں کو جنم دیتی ہے۔
November 21, 2024 at 1:39 PM
آئنہ دیکھیں گے تو خود میں تجھے پائیں گے
ہم جو گمنام ہیں پہچان لیے جائیں گے

دل نہ چاہے تو قیامت کو کہیں ، آج نہیں
تیرے اک بار بلانے پہ چلے آئیں گے۔
November 21, 2024 at 7:17 AM