جوڈیشل کمیشن کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ یہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ خود 9 مئی کے فالس فلیگ اور 26 نومبر کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ عمران خان
جوڈیشل کمیشن کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ یہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ خود 9 مئی کے فالس فلیگ اور 26 نومبر کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ عمران خان
چَین چَین چَین لکھتا رہا اور ابھی کھیل شروع بھی نہیں ہوا اور چپّل چھوڑ کر بھاگنے کا اعلان کررہا ہے۔۔۔۔۔
ان سب کو یاد رکھنا۔ یہ صحافت کی وہ رقاصائیں ہیں جو گھُنگھرُو پیر میں نہیں زبان پر باندھتی ہیں۔
چَین چَین چَین لکھتا رہا اور ابھی کھیل شروع بھی نہیں ہوا اور چپّل چھوڑ کر بھاگنے کا اعلان کررہا ہے۔۔۔۔۔
ان سب کو یاد رکھنا۔ یہ صحافت کی وہ رقاصائیں ہیں جو گھُنگھرُو پیر میں نہیں زبان پر باندھتی ہیں۔
چَین چَین چَین لکھتا رہا اور ابھی کھیل شروع بھی نہیں ہوا اور چپّل چھوڑ کر بھاگنے کا اعلان کررہا ہے۔۔۔۔۔
ان سب کو یاد رکھنا۔ یہ صحافت کی وہ رقاصائیں ہیں جو گھُنگھرُو پیر میں نہیں زبان پر باندھتی ہیں۔
چَین چَین چَین لکھتا رہا اور ابھی کھیل شروع بھی نہیں ہوا اور چپّل چھوڑ کر بھاگنے کا اعلان کررہا ہے۔۔۔۔۔
ان سب کو یاد رکھنا۔ یہ صحافت کی وہ رقاصائیں ہیں جو گھُنگھرُو پیر میں نہیں زبان پر باندھتی ہیں۔
*عمران خان وہ لیڈر ہیں جو سیاسی بیک گراونڈ سے نہیں بلکہ کرکٹر تھے وہ ہمیشہ سمجھدارگفتگو کرتے ہیں
اُنکو بھی ایسے ہی جیل میں ڈالا گیا جیسے جھوٹے کیسیز پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈالا گیا،
ایسے لیڈر کو ہم ہر صورت جیل سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں ہم سیدھی بات کرتے "عمران خان کو رہا کر
*عمران خان وہ لیڈر ہیں جو سیاسی بیک گراونڈ سے نہیں بلکہ کرکٹر تھے وہ ہمیشہ سمجھدارگفتگو کرتے ہیں
اُنکو بھی ایسے ہی جیل میں ڈالا گیا جیسے جھوٹے کیسیز پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈالا گیا،
ایسے لیڈر کو ہم ہر صورت جیل سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں ہم سیدھی بات کرتے "عمران خان کو رہا کر
مگر 27 نومبر کوثابت کیا کہ آپ کا تو انسانئیت سےکوئی تعلق نہیں
مگر 27 نومبر کوثابت کیا کہ آپ کا تو انسانئیت سےکوئی تعلق نہیں